ابنا: اس موقع پر ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں ميں نماز عيد کے پروشکوہ اجتماعات منعقد ہوئے اور لوگوں نے سنت ابراہيمي کي پيروي کرتے ہوئے جانوروں کي قرباني کي۔
دارالحکومت تہران ميں کئي مقامات پر نماز عيدالضحي کے روح پرو اجتماعات ہوئے جن ميں ہزاروں کي تعداد ميں فرزندان توحيد نے رب جليل کے حضور سرتسليم خم کيا اور عبوديت کے سرفراز راستے پر ثابت قدم رہنے کا عہد ايک بار پھر دہرايا۔
دارالحکومت ميں تہران ميں نماز عيد الضحي کا مرکزي اجتماع تہران يونيورسٹي ہوا جس کي امامت آيت اللہ امامي کاشاني نے کي۔ آيت اللہ امامي کاشاني نے نماز عيدالضحي کے عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ساري دنيا کے مسلمانوں کو ايک پليٹ فارم پر جمع ہونے کي دعوت ديتے ہوئے فلسفہ حج اور قرباني پر تفصيل سے روشني ڈالي۔
انہوں نے کہا کہ ايک ايسي دنيا ميں جہاں اسلام دشمن قوتين توہين آميز فلم اور خاکے شائع کرکے مسلمانوں کو نيچا دکھانے کي کوشش کر رہي ہيں، مسلمانوں کا ايک پليٹ فارم پر جمع ہونا ايک اہم ذمہ داري ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اسلام اور خاندان وحي کي حمايت ميں اٹھ کھڑے ہونا چاہيے۔
آيت اللہ امامي کاشاني نے ايراني عوام سے بھي اپيل کي کہ وہ باہمي يکجہتي کے ذريعے مغربي ملکوں کي عائد کردہ پابنديوں کا مقابلہ کريں اور شہيدوں کے خون کي برکت سے حاصل ہونے والي سربلندي کا دفاع کرتے رہيں۔
انہوں نے واضح کيا کہ معاشرے کے مشکلات حل کرنا ہم سب کي ذمہ داري ہے اور اقتصادي مشکلات کے حل کے لئے سنجيدہ کوششوں کي ضرورت ہے۔ايران اور سعودي عرب کے ساتھ ہي متعدد ديگر ملکوں ميں بھي جمعے کو عيد الضحي منائي گئي۔
.....
/169